اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق آراکان نیشنل آرمی نے اتوار کو راخین صوبے میں ایئر بیس پر راکٹ حملے کئے تھے جن کی وجہ سے فوج نے ایئربیس خالی کر دی تھی- راخین صوبہ بنگلادیش کی سرحد پر واقع ہے- ان جھڑپوں میں آراکان نیشنل آرمی نے فوج کے ایک افسر کو اغوا کر لیا تھا جبکہ ایک فوجی مارا گیا تھا- باغیوں نے ایئربیس سے بھاری مقدار میں ہتھیار اور فوجی ساز و سامان بھی لوٹ لیا تھا- میانمار میں آراکان نیشنل آرمی نے کوکانگ نیشنل آرمی کے ساتھ متحد ہو کر فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے- راخین صوبے میں جھڑپیں ایسے حالات میں ہو رہی ہیں کہ جب شمالی صوبے کاچین میں بھی کاچین لبریشن آرمی کے ساتھ فوج کی شدید جھڑپیں جاری ہیں- میانمار کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ کوکانگ علاقے پر اس نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے- کوکانگ علاقہ شان صوبے میں واقع ہے- شمالی علاقے میں باغیوں کے خلاف فوج کے حملوں پر ملک کے بعض حلقوں نے احتجاج کیا ہے اور بارہ مسلح گروہوں کے اتحاد یونائیٹڈ نیشنز فیڈرل کونسل نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے- اس اتحاد کے سیکرٹری جنرل خو تور نے ایک بیان میں کوکانگ میں فوج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے- اس بیان میں جو چار نکات پر مشتمل ہے، آیا ہے کہ یونائیٹڈ نیشنز فیڈرل کونسل قیام امن کے عمل پر جھڑپوں کے منفی اثرات کی بابت تشویش کا اظہار کرتی ہے- اس بیان میں کہا گیا ہے کہ امن مذاکرات کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں اور بری فوج کے حملوں کے ساتھ ساتھ فضائی حملوں میں بھی تیزی آ گئی ہے- اطلاعات ہیں کہ میانمار کی حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیان سات مارچ سے شہر یانگون میں مذاکرات جاری ہیں- اگرچہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ گفتگو جاری رہے گی لیکن جھڑپوں میں شدت آنے کی وجہ سے گفتگو میں ایک ہفتے کا وقفہ آ گیا تھا- ان حالات کے پیش نظر میانمار کی حکومت توقع کر رہی ہے کہ مذاکرت کے نئے دور سے تیس مارچ کو فریقین جنگ بندی کے معاہدے کے مسودے پر اتفاق کر لیں گے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲